چڑھتی جوانی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شباب کی ابتدا، جوانی کا آغاز، نوجوانی۔  ہمیں وہ جان بھی لیں گے ہمیں پہچان بھی لیں گے اتر جائے گا سب نشہ ابھی چڑھتی جوانی ہے      ( ١٩١٠ء، تاج سخن، ٣٠٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چڑھ' سے ماخوذ اردو میں 'چڑھنا' مصدر سے فعل حال 'چڑھتا' کی تانیث 'چڑھتی' بنا اور فارسی زبان کے لفظ'جوان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'جوانی' بنا جو اردو میں بطور اسم صفت بھی مستعمل ہے۔ ١٨٩٥ء کو "دیوان راسخ دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث